مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانس میں طلبہ تحریک کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے احتجاج ختم کرانے کے لیے پیش کردہ خصوصی پیکیج مسترد کردیا ہے۔
طلبہ رہنماؤں کے مطابق، حکومت نے گزشتہ روز گزشتہ چند ہفتوں سے جاری مظاہروں کے جواب میں تعلیمی شعبے سے متعلق تجاویز پیش کی تھیں، لیکن ان میں مظاہرین کے تمام مطالبات شامل نہیں ہیں۔
فرانسیسی طلباء نے حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ پیش کردہ تجاویز بعض تعلیمی شعبوں اور مخصوص نصابی مراحل میں طلبہ کے مطالبات کے کم سے کم حصے کو ہی پورا کرتی ہیں۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب تک مطالبات پر مناسب پیش رفت نہیں ہوتی، مظاہرے جاری رہیں گے۔
دوسری جانب، فرانس کی حکومت کو سنگین مالی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ ملک کا سرکاری قرض مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 120 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومت کو مزید قرض لینے کے معاملے میں بھی مشکلات اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ ان حالات نے آئندہ سال کے بجٹ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے عمل کو بھی پیچیدہ بنادیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران فرانس کے درجنوں شہر احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں رہے ہیں۔ تاحال ایسے کوئی واضح آثار سامنے نہیں آئے جن سے مظاہروں کی شدت میں کمی کا اندازہ لگایا جاسکے۔
آپ کا تبصرہ